کاروار :20؍جولائی (ایس اؤ نیوز)فورلین قومی شاہراہ کی تعمیر کے لئے تحویل میں لی گئی زمین کے سینکڑوں کروڑ روپیوں کا معاوضہ تقسیم کیا جا چکا ہے۔ 16.78کروڑ روپئے باقی ہیں تو دوسری طرف کئی لوگ معاوضہ کے لئے دفتر کا چکر لگارہے ہیں، ان سب کے درمیان 4.9کروڑروپیوں کے معاوضہ کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ۔ تحویل اراضی افسران متعلقہ معاوضہ کی تقسیم کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے امکانات ہیں۔
فورلین شاہراہ کی تعمیر کے لئے تعلقہ حدود میں تحویل اراضی کو لےکر ابھی تک 85فی صد سے زائد معاملات کو حل کرلیاگیا ہے۔ 9دیہات کی 38.61ایکڑ زمین کوشاہراہ تعمیر کے لئے ہضم ہوئی ہے۔ زرعی زمین، بنجر زمین ، غیر زرعی زمین کو شاہراہ کے لئے قبضہ کرلیاگیا ہے۔ 2015سے یہ کارروائی جاری ہے۔معاوضہ کی تقسیم کے لئے کل 111.05کروڑ روپئے منظور ہوئے تھے جس میں سے ابھی تک 94.18کروڑروپئے تقسیم کئے جاچکے ہیں، 16.87کروڑروپئے متاثرین میں تقسیم ہونا باقی ہے۔ ان میں کچھ معاملات کو حل کرنے کاکام جاری ہے تو چند معاملات عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
سینکڑوں کروڑ روپیوں کی تقسیم کئے افسران کو 3کروڑروپئے کی تقسیم کاری سردرد بن گئی ہے۔ کاروار کے چتاکول علاقے میں 56معاملات میں ایسے ہیں جس کے متعلق کسی نے بھی معاوضہ کے لئے آگے نہیں آیاہے، یہاں قریب 1.9کروڑروپئے بقیہ ہیں تو کچھ ایسے ہی حالات چنڈیا فاریسٹ علاقے کے بھی ہیں۔ یہاں 100معاملات کے 3کروڑروپئے کے وارثین نہیں مل رہے ہیں۔ نوٹس جاری کئے جاچکے ہیں۔ اگرکوئی معاوضہ لینے نہیں آیا تو رقم عدالت میں جمع کر دی جائے گی ، عدالت میں معاملہ کی سماعت مکمل ہوکر فیصلہ ہونےکے بعد وارثین میں معاوضہ تقسیم کئے جانے کی تحویل اراضی کے اسسٹنٹ کمشنر ابھیجن نے جانکاری دی۔